ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار سرکاری کالج میں ایک ہزار سے زائد طلبا؛ مگر کمرے صرف سات؛ نئی عمارت کی مانگ پرتوجہ نہ دینے کا الزام

کاروار سرکاری کالج میں ایک ہزار سے زائد طلبا؛ مگر کمرے صرف سات؛ نئی عمارت کی مانگ پرتوجہ نہ دینے کا الزام

Thu, 04 Aug 2016 18:59:28    S.O. News Service

کاروار:4/اگست(ایس او نیوز)ضلع اُترکنڑا کا صدر مقام کاروار میں واقع سرکاری پی یو کالج میں ایک ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں، مگر اس کالج میں صرف کمرے ہیں۔ کمرے کم ہونے اور طلباکی تعداد ہزار سے زائد ہونے کی بنا پر ایک شعبہ کو صبح کے لئے اور دوسرے شعبہ کو دوپہر کے لئے مختص کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود طلبا کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کمرے تنگ ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے مکمل سہولیات سے لیس ایک نئی عمارت کی مانگ کی جارہی ہے، مگر بتایا گیا ہے کہ اس مانگ پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

طلبا سوال کرتے ہیں کہ ایسے تنگ کمروں میں میں ہم تعلیم کیسے حاصل کریں ؟  ریاست کی اہم کالجوں میں کاروار کی پی یوکالج کا بھی شمار ہوتا ہے۔ مستقبل لکچرار حضرات کی قلت ہونے کے باوجود عارضی طورپر مہمان لکچرار کا تقرر کرتے ہوئے روزانہ سائنس، آرٹس اور کامرس کے کلاسس بغیر کسی دقت کے جاری ہیں، لیکن کالج کے لئے ضروری عمارت ابھی تک نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اس کالج کے لئے 24کمروں کی ضرورت ہے ، لیکن 1070طلبا کی کالج میں کلاسس کے لئے صرف 7کمرے ہونے کی وجہ سے بیک وقت تینوں شعبہ جات کی کلاسس چلانا مشکل کام ہے۔

صبح 15-8سے دوپہر 30-1تک سائنس کے کلاسس چلتے ہیں ، ان کلاسسوں کے بعد ہی کامرس اور آرٹس کے کلاسس شروع ہوتے ہیں جو شام 5بجے تک جاری رہتے ہیں۔ ان اوقات کی وجہ سے دور دراز دیہی مقامات سے آنے والے طلبا کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ لیکچرروں کا کہنا ہے کہ ہر کمرہ میں سو سوطلبا کوتعلیم دینا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن کیا کریں ، اسی چھوڑی سی تنگ جگہ میں طلبا تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ لیکچرروں کے مطابق پچھلے کئی برسوں سے سہولیات سے آراستہ عمارت کے لئے مانگ رکھی جارہی ہے، لیکن صرف وعدوں اورارادوں کا معاملہ ہےکوئی بھی عملی سطح پر کام نہ ہونے سےطلبا کسی نہ کسی طرح تعلیم حاصل کرنے کے لئے مجبور ہیں۔


Share: